ایک اور “دو قومی ںظریہ”

Image

Picture courtesy: Dr.Ahmed Farouqi

اہلسنت والجماعت کے زیر اہتمام  ہزار گنجی میں فروٹ کے کریٹ میں دیوان حافظ (بقول اہلسنت و الجماعت قرآنی آیات) کے خلاف کوئٹہ شہر میں تین دن سے ہنگامہ آرائی ہورہی ہے۔ دکانوں کو جلانے  کے ساتھ ساتھ شٹرڈاؤن ہڑتال‘ ریلی اور دھرنے بھی دیے جارہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ چونکہ فروٹ کے کریٹ ایران سے درآمد ہوا ہے اسلئے کوئٹہ کے شیعہ لوگ اس بی حرمتی کا ذمہ دار ہے۔ اہلسنت والجاعت کے اوباشوں نے ہزارہ لوگوں کے املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ ان کے علاقوں میں زبردستی گھسنے کی کوشش بھی کی۔ روزنامہ قدرت کے مطابق دھرنے سے خطاب کر تے ہوئے اہلسنت والجماعت کے صو بائی امیر مو لانا رمضان مینگل نے کہا کہ ’’الحمد اللہ‘‘ پاکستان کو سنی مسلمانوں نے آزاد کیا اور یہاں اسلام، قرآن اور[صرف] سنی مسلمانوں کی حفاظت ہونی چاہیے۔” یہ سب کچھ کھلے عام اورسیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں وقوع پذیر ہورہا ہے اور میڈیا بھی خاموش ہے۔

فروٹ کے کریٹ میں دیوان حافظ (بقول اہلسنت و الجماعت قرآنی آیات)

فروٹ کے کریٹ میں دیوان حافظ (بقول اہلسنت و الجماعت قرآنی آیات)

لیکن اصل کہانی کچھ یوں یے

۔  66 سال پھلے ایک سیکولر اور کوٹ پینٹ میں ملبوس شخص، جو کہ آغاز میں انڈین نیشنل کانگرس میں شامل ہوئے اور مسلم ہندو اتحاد کے حامی تھے، برصغیر کے مسلمانوں کیلیئے ایک الگ ملک بنا لیا۔ ان کا اپنا تعلق شیعہ مسلک سے تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی گیارہ اگسٹ 1947 کی تقریر میں سب کو یقین دلایا کہ اب کے بعد اس ملک میں سب کے حقوق برابر ہوںگے۔ کسی کو کسی پر کوئی برتری نہیں ہوگی۔ حتی کہ غیر مسلموں کا اتنا ہی حق ہوگا جتنا کہ مسلمانوں کا۔

لیکن ہواں یوں کہ ان کی رحلت کے فورا بعد، ملا-ملیٹری اتحاد نے یہ تبلیغ شروع کردی کہ اگر یہ ملک صرف مسلمانوں کیلیئے نہیں بنا، تو پھر بنا کیوں؟ پہلے بھی تو ہم ہندو  اور عیسایی کے ساتھ ہی رہ
 رہے تھے۔ یہ لوگ سب سے پہلے غیر مسلمانوں کےخلاف زہرافشانی کی۔ بعد میں مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کو بھارتی ایجینٹ کہہ کر قتل عام کیا گیا۔
  مشرقی پاکستان “دو قومی نظریہ” کو خیر باد کہ کر ایک اور دوقومی نظریے پر عمل کرکے پاکستان سے الگ ہوگیا۔ اب جبکہ بنگلہ دیش نے جماعت اسلامی کے عبدالقادر ملّا  کو ہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی مسلمان دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث ہونے پر پھانسی دے دی ہے لیکن اس کو پاکستان میں ہیرو کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
اس کے بعد تیسرے دوقومی نظریئے کی بنا پر  مذہبی جماعتیں (سنی  اور شیعہ ) ملکرقادیانیوں کو اسلام سے باہر پھینکھا۔ وہ بھی ایک سیکولر اور شیعہ وزیر اعظم کی حکومت کے دوران۔
دو قومی نظریہ نمبر چار(شیعہ-سنی) کی بنیاد ضیا الحق نے رکھی۔ اس دو قومی نظرییے کو پایہ تکمیل تک پہچانے کیلیئے سینکھڑوں مدرسے بنائے گئے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے لاکھوں کروڑوں روپے آگئے تا کہ شیعہ کو بھی دایرہ اسلام سے باہر پھینک کر ایک خاص طبقے کے مفادات کو یقینی بنایا جائے۔  بھت سوں کا یہ اصرار یے کہ صرف ایک مٹھی بھر دیوبندی دہشت گرد ہی شیعوں کے خلاف ہیں۔ لیکن سمجھ یہ نہیں آرہا کہ پچھلے کئی سالوں سے بیدردی سے شیعوں کا قتل عام ہورہاہے لیکن ان کے قاتل کھلے عام “شیعہ کافر” کے نعرے لگا کے پھر رہے ہوتے ہیں۔ یہ مٹھی بھر ٹولہ کتنا طاقتور یے بھلا۔۔۔۔۔۔۔؟
بلوچ-پنجابی دو قومی نظریہ، سندھی-پنجابی دو قومی نظریہ، پٹھان-پنجابی دو قومی نظریئے و غیرہ تو کب سے گردش میں ہیں۔
Categories: Pakistan | Tags: , , , | Leave a comment

Post navigation

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: